نئی دہلی24(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) امرتسر کے نرنکاری عمارت میں ہوئے دھماکہ معاملہ میں پنجاب پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس نے معاملے میں دوسرے ملزم اوتار سنگھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے ملزم کے پاس سے وہ ہتھیار بھی برآمد کر لیے ہیں جس کا استعمال دھماکے میں ہوا تھا۔وہیں صورت میں جاوید نامی ایک شخص کا بھی نام سامنے آ رہا ہے۔ وہ اوتار سنگھ کے رابطے میں آیا۔ دبئی سے پہلی بار اس نے اوتار کو فون کیا۔ وہیں معاملہ میں اٹلی کے بھی ایک شخص کا نام سامنے آ رہا ہے۔ اوتار سنگھ نے ہی نرنکاری عمارت میں ستسنگ میں مصروف عقیدت مندوں پر گرینیڈ پھینکا تھا جبکہ معاملے میں گرفتار کیا گیا پہلا ملزم عمارت کے باہر موٹر سائیکل پر انتظار کر رہا تھا اور اس نے گیٹ پر کھڑے دو لوگوں کو بندوق کی نوک پر لے رکھا تھا تاکہ وہ شور نہ مچا سکیں۔واضح ہو کہ معاملے میں گرفتار کیا گیا پہلا ملزم ۃوکرم جیت سنگھ پنجاب کا مقامی رہائشی ہے۔ اس نے پاکستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی مدد سے اس حملے کو انجام دیا تھا۔ اس حملے میں تین لوگوں کی موت ہو گئی تھی، جبکہ 20 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ گرینیڈ حملہ امرتسر سے تقریبا 15 کلو میٹر دور واقع عاد ل وال گاؤں میں نرنکاری فرقہ کے ستسنگ عمارت میں ہوا تھا۔ حملہ اس وقت ہوا تھا جب لوگ پوجا کے لئے جمع ہوئے تھے۔ وہاں تقریبا 200 لوگ موجود تھے۔ ملک و بیرون ملک میں نرنکاری پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، اس کا ہیڈ آفس دہلی میں ہے۔ اسے حملے کے لئے پیسہ اور گرینیڈ پاکستان میں بیٹھے خالصتانی گروہ کا رکن وکرم جیت سنگھ عرف پی ایچ ڈی نے مہیا کروایا تھا۔